🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ وَآدَابِ الْجُلُوسِ فِيهِ وَالْمُرُورِ
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے¤اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1334
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ لِي: ( (يَا كَعْبُ! إِذَا كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتَ الصَّلَاةَ) )
سیّدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں میرے پاس اس حالت میں آئے کہ میں نے انگلیوں کے درمیان تشبیک ڈالی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے کعب! جب تم مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ ڈالا کرو،کیونکہ جب تک تم نماز کے انتظار میں رہتے ہو تب تک نماز میں ہی ہوتے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 967، وابن خزيمة: 444، وأخرجه ابوداود بلفظ: ((اذا توضأ أحدكم فأحسن وضوء ه ثم خرج عامدا)): 562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18103، 18115، 18130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18310»
وضاحت: فوائد: … تشبیک: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں مضبوطی کے ساتھ داخل کرنا۔ لیکن ذہن نشین رکھیں کہ تشبیک مطلق طور پر منع نہیں ہے، بلکہ صرف اس وقت منع ہے، جب آدمی نماز کے قصد سے مسجد کی طرف جا رہا ہو، یا نماز کا انتظار کر رہا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو، کیونکہ ایک حدیث میں تشبیک سے منع کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جب آدمی نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہا ہوتو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔ان صورتوں کے علاوہ کئی مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تشبیک کرنا ثابت ہے، جیسا کہ سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہما والی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشبیک کی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے، کہ اس کا بعض اس کے بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات سمجھانے کے لیے تشبیک کی۔ (صحیح بخاری)

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 967


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1334 in Urdu