الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ وَآدَابِ الْجُلُوسِ فِيهِ وَالْمُرُورِ
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے¤اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 1338
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُوسَى ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي الْمَجْلِسِ يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ: ( (لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ، أَوَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَٰذَا؟ فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ ثُمَّ لْيُعْطِهِ كَذَلِكَ) )
دوسری سند سے مروی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کو سیّدنا بنّہ جہنی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں یا کسی مجلس میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو بغیر نیام کے تلوار سونت کر ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسا کرتا ہے اللہ اس پر لعنت کرے، کیا میں نے تمہیں اس طرح کرنے سے منع نہیں کیا؟ جب تم تلوار نکالو توآدمی اسے نیام میں رکھے، پھر وہ اسی طرح آگے دے دے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، روي عن ابن لھيعة عبد الله بن وھب۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 1190، وفي الاوسط: 2591، والبزار: 3335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14742، 14980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14801»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ کسی مسلمان کو تکلیف دینا اللہ تعالیٰ کو کتنا ناپسند ہے۔ عصر حاضر میں اس نقطے پر غور و فکر کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1338 in Urdu