🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب الأماكن المنهي عنها والمأذون فيها للصلاة
ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1425
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا تُصَلُّوا فِي عُطُنِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الْجِنِّ خُلِقَتْ، أَلَا تَرَوْنَ عُيُونَهَا وَهِبَابَهَا إِذَا نَفَرَتْ، وَصَلُّوا فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ فَإِنَّهَا هِيَ أَقْرَبُ مِنَ الرَّحْمَةِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں، جب یہ بدکتے ہیں تو کیا تم ان کی آنکھیں اور ہوشیاری نہیں دیکھتے۔ البتہ بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ رحمت کے زیادہ قریب ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1425]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الشافعي: 1/ 67، والبيھقي: 2/ 449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20557)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20831»
وضاحت: فوائد: … اِن احادیث میں بکریوںکے باڑے میں نماز پڑھنے اور اونٹوں کے باڑے میں نہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس فرق کی وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ اونٹوں کے باڑوں میں ان کے پیشاب اور لید کے نجس ہونے کی وجہ سے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اگر یہ وجہ درست ہوتی تو بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھنے سے روک دیا جاتا، کیونکہ دونوں کے پیشاب وغیرہ کا ایک حکم ہونا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس علت کی وضاحت فرما دی ہے کہ اونٹوں کے مزاج میں شیطنت اور شرارت پائی جاتی ہے، اس لیے نمازی کو یہ حکم دیا گیا، تاکہ وہ متوقع نقصان سے بچ سکے۔ یہ رحمت کے زیادہ قریب ہیں کا مفہوم یہ ہے کہ اونٹوں کے برعکس اس جانور کے مزاج میں کمزوری اور نرمی پائی جاتی ہے، نمازی کو اس سے کوئی تشویش نہیں ہوتی۔ مزید درج ذیل احادیث ِ مبارکہ پر غور کریں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا فِیْ مُرَاحِ الْغَنَمِ، وَامْسَحُوْا رُغَامَھَا، فَإِنَّھَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّۃِ۔)) یعنی: بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھا کرو اور ان کی رینٹ صاف کیا کرو، کیونکہیہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں۔ (بیہقی: ۲/ ۴۴۹، بزار: ۴۹، صحیحہ: ۱۱۲۸)
سیّدنا برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا فِیْھَا فَاِنَّھَا بَرَکَۃٌ۔)) یعنی: ان میں نماز پڑھ لیا کرو، کیونکہ ان میں برکت ہے۔ (ابوداود: ۱۸۴، ترمذی: ۸۱، ابن ماجہ: ۴۹۴)
علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ بکریوں میں بغاوت اور سرکشی کا مادہ نہیں پایا جاتا، بلکہ ان کے مزاج میں ضعف اور سکینت ہوتی ہے، وہ نمازی کو تکلیف دیتی ہیں نہ اس کی نماز منقطع کرتی ہیں، بلکہ یہ برکت والی ہوتی ہیں، اس لیے ان کے باڑوں میں نماز پڑھنی چاہیے۔ (عون المعبود: ۱/۱۲۰)

الحكم على الحديث: اسناده حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1425 in Urdu