الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ
جوتوں میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1427
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ( (لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟) ) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ: ( (إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَهُ فَلْيَنْظُرْ فِيهِمَا، فَإِنْ رَأَى بِهِمَا خَبَثًا فَلْيَمْسَحْهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ لْيُصَلِّ فِيهِمَا) )
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اچانک آپ نے جوتے اتار دیے،یہ دیکھ کر مقتدی لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے پوچھا: تم نے جوتے کیوں اتارے؟ لوگوں نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو جبریل علیہ السلام آئے تھے اورانہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھ نجاست لگی ہوئی ہے (اس لیے میں نے جوتے اتار دیئے تھے)۔ (اب اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ) جب کوئی آدمی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے الٹا کر ان کو دیکھ لے، اگر ان میں کوئی گندگی دیکھے تو اسے زمین کے ساتھ (رگڑ کر) صاف کر لے، اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1427]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 650، وابن خزيمة: 1017، وابن حبان: 2185، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11153)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11170»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1427 in Urdu