الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ
جوتوں میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1431
عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا وَعَلَيْهِمْ نِعَالُهُمْ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ وَرَبِّ هَٰذِهِ الْحُرْمَةِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى هَٰذَا الْمَقَامِ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ وَانْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي أَيَّامٍ (وَفِي رِوَايَةٍ) : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ
ابو الأوبر کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: آپ ہیں جو لوگوں کو جوتوں میں نماز پڑھنے سے منع کرتے ہیں؟ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: نہیں، بلکہ اس حرم کے رب کی قسم ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوتے پہن کر اس مقام کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تھے تو جوتے پہنے ہوئے تھے۔ (مزید غور کرو کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرما دیا إلاّیہ کہ دوسرے دنوں میں آ جائے۔ اورایک روایت میں ہے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتوں میں نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1431]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن راهويه: 237، والطحاوي: 1/ 511، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8772، 9467)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8757»
وضاحت: فوائد: … الا یہ کہ وہ دوسرے دنوں میں آجائے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی قسم کے روزے رکھ رہا ہو اور بیچ میں جمعہ کا دن آجائے تو اس کا روزہ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں، مقصودِ احادیثیہ ہے کہ صرف جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1431 in Urdu