الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ اسْتِحْبَابِ السُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي وَالدُّنُوِّ مِنْهَا وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ وَأَيْنَ تَكُونُ مِنْ الْمُصَلَّى
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان¤اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1480
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ) )
سیّدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سُترے کی طرف نماز پڑھے تو وہ اس کے قریب ہوجائے تاکہ شیطان اس پر اس کی نماز قطع نہ کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 695،والنسائي: 2/ 62، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16090)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16188»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں دیا گیا حکم عام ہے اور اس کی وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے کہ سترہ نہ ہونے کی صورت میں نماز شیطان کی وجہ سے متأثر ہو گی۔ اس لیے ہر مقام پر سترے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1480 in Urdu