الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب استحباب السترة للمصلي والدنو منها ومن أى شيء تكون وأين تكون من المصلى
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان¤اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1481
عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى عَمُودٍ وَلَا عُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا
سیّدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی ستون یا لکڑی یا درخت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہو، مگر آپ اسے اپنی دائیں یا بائیں سمت کی طرف کر لیتے او ربالکل اس کے سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، الوليد بن كامل لين الحديث، والمھلب بن حجر وضباعة مجھولان، أخرجه ابوداود: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24321»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس باب کی دوسری احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ نمازی کے سامنے کم از کم اونٹ کی پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہونی چاہیے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف جدا
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1481 in Urdu