الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأْمِينِ وَالْجَهْرِ بِهِ فِي الْقِرَاءَةِ وَإِخْفَائِهِ
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1593
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قراءت کرنے والا(امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1593]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9923»
وضاحت: فوائد: … پہلی حدیث میں ہے کہ جب امام {وَلَا الْضَّالِّیْنَ} کہے تو مقتدی آمین کہیں، لیکن دوسری حدیث میں ہے کہ جب امام آمین کہے تو مقتدی آمین کہیں۔ ان دونوں احادیث کا ایک مفہوم ہی ہے، پہلی حدیث کا معنییہ ہے کہ جب امام {وَلَا الْضَّالِّیْنَ} سے فارغ ہو جائے اور دوسری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب امام آمین کہنے لگے تو مقتدی آمین کہیں، اس طرح امام، مقتدی اور فرشتے، سب کی آمین ایک وقت میں ہو گی۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1593 in Urdu