🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأْمِينِ وَالْجَهْرِ بِهِ فِي الْقِرَاءَةِ وَإِخْفَائِهِ
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1592
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا قَالَ الْإِمَامُ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُونَ آمِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ عُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الْضَّالِّیْنَ} کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگیا اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1592]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 780، ومسلم: 410، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7187، 9921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7187»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 780
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1593
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قراءت کرنے والا(امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1593]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9923»
وضاحت: فوائد: … پہلی حدیث میں ہے کہ جب امام {وَلَا الْضَّالِّیْنَ} کہے تو مقتدی آمین کہیں، لیکن دوسری حدیث میں ہے کہ جب امام آمین کہے تو مقتدی آمین کہیں۔ ان دونوں احادیث کا ایک مفہوم ہی ہے، پہلی حدیث کا معنییہ ہے کہ جب امام {وَلَا الْضَّالِّیْنَ} سے فارغ ہو جائے اور دوسری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب امام آمین کہنے لگے تو مقتدی آمین کہیں، اس طرح امام، مقتدی اور فرشتے، سب کی آمین ایک وقت میں ہو گی۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1594
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں۔ اگر اس کی آمین ان کی آمین سے موافقت کر جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1594]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9926»

الحكم على الحديث: انظر الحديث رقم: 542
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1595
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ {وَلَا الضَّالِّينَ} فَقَالَ آمِينَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس (آمین) کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1595]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 932، 933، والترمذي: 248، 249، وابن ابي شيبة: 2/ 425، والدارقطني: 1/ 333، والبيھقي: 2/ 57، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19048»
وضاحت: فوائد: … سنن بیہقی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: یَرْفَعُ بِھَا صَوْتَہٗ۔
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمین کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتے تھے۔ دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ آپ آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا بھی کرتے اور بلند بھی کرتے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 932
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1596
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَرَأَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} قَالَ آمِينَ وَأَخْفَى بِهَا صَوْتَهُ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ
اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو آہستہ کیا اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور دائیں بائیں سلام پھیرا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: واخفي بھا صوته فقد أخطأ فيها شعبة۔ أخرجه الطيالسي: 1024، والبيھقي: 2/ 57، والدار قطني: 1/ 334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19060»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا حدیث غور طلب ہے، امام سفیان نے اس کو یوں بیان کیا ہے: سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اپنی آواز کو لمبا کیا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴۲، ابوداود: ۹۳۲، ترمذی: ۲۴۸، دارقطنی: ۱/ ۳۳۳، دارمی: ۱۲۴۷، ابن ابی شیبہ: ۲/ ۴۲۵) لیکن جب امام شعبہ نے بیان کیا تو ان کے الفاظ یہ تھے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اپنی آواز کو پست کیا۔ (حوالہ اوپر گزر چکا ہے) یہ کوئی پریشان کن صورت نہیں ہے، کیونکہ جب امام سفیان اور امام شعبہ کا اختلاف ہو جائے تو امام سفیان کے قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ائمہ کرام نے اسی اصول کو ترجیح دی ہے۔ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں امام شعبہ کی اس خطا پر تنبیہ کی ہے، پھر امام ترمذی نے اپنی جامع اور العلل الکبیر میں ان سے نقل کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ علاء بن صالح نے امام سفیان کی آمین بالجہر والی روایت پر متابعت کی ہے، اس متابعت کا ذکر ابن ابی شیبہ: ۱/ ۲۹۹، ابوداود: ۹۳۳، ترمذی: ۲۴۹ میں موجود ہے۔ (انظر: ۱۸۸۴۲، وشرحہ) خلاصۂ کلام: سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بلند آواز سے آمین کہنا ثابت ہوتا ہے۔ آمین بالجہر کے مزید دلائل درج ذیل ہیں: سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَائَ ۃِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَہٗوَقَالَ: ((آمِیْن۔)) … جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام القرآن (سورۂ فاتحہ) کی قرائـت سے فارغ ہوتے تو آواز کو بلند کرتے ہوئے آمین کہتے۔ (ابن حبان:۴۶۲، دارقطنی: ۱۲۷، حاکم: ۱/۲۲۳، بیھقی: ۲/ ۵۸،صحیحہ:۴۶۴) شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کا بلند آواز سے آمین کہنا مشروع ہے۔ امام شافعی، امام احمد اور امام اسحق وغیرہ کا یہی مسلک ہے، البتہ امام ابوحنیفہ اور ان کے پیروکار اس کے قائل نہیں ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ اِن لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں، سوائے ان عمومات کے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ذکر میں اصل قانون یہ ہے کہ آواز کو پست رکھا جائے۔ لیکن اس قسم کے عام دلائل، اس باب کی خاص اور واضح روایات کے مقابلے میں مفید ثابت نہیں ہو سکتے۔ بہرحال اس حقیقت کو ایسے اہل علم سمجھ پائیں گے، جن کو اللہ تعالیٰ نے عقلی جمود اور مذہبی تعصب سے پاک رکھا ہے۔ (صحیحہ: ۴۶۴) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا حَسَدَتْکُمُ الْیَہُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ مَا حَسَدَتْکُمْ عَلٰی آمِیْن، فَأَکْثِرُوْا مِنْ قَوْلِ آمِیْن۔)) … جس قدر تم پر یہودی، آمین سے چڑتے ہیں، اتنا کسی اور چیز سے تم پر نہیں چڑتے، لہٰذا تم کثرت سے آمین کہنا۔ (ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ) امام ابو حنیفہ کے استاد امام عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: میں نے دو سو (۲۰۰) صحابہ کو دیکھا کہ بیت اللہ میں جب امام {وَلَا الضَّالِّیْنَ} کہتا تو سب بلند آواز سے آمین کہتے۔ (بیہقی) نعیم مجمر کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز پڑھائی، پھر نعیم اس طریقے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے آمین کہی اور جو لوگ آپ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے انھوں نے بھی آمین کہی۔ (نسائی) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قَرَأَ الإِْمَامُ: {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلاالضَّالِیْنَ} فَأَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوْا، فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تُؤَمِّنُ عَلٰی دُعَائِہٖ،فَمَنْوَافَقَتَأْمِیْنُہُ تَأْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔)) … جبامام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھ کر آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی امام کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔ (أبو یعلی:۴/۱۴۰۸، صحیحہ:۲۵۳۴) شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث سے یہ استدلال کرنا بھی درست ہے کہ مقتدیوں کو آمین بآواز بلند کہنا چاہیے، ایک دوسری کتاب میں میں نے اسی استنباط کی طرف اپنے میلان کا اظہار کیا ہے، کیونکہیہ استدلال سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے اثر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث کے مطابق ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۳۴) سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کاکون سا اثر مراد ہے؟ اس کے بارے میں امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے خود کہا: پھر میں نے امام بخاری کو دیکھا، انھوں نے صیغۂ جزم کے ساتھ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا معلق اثر ذکر کیا۔ جس پر کلام کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۲/ ۲۰۸) میں کہا: عبد الرزاق نے اس اثر کو ابن جریج عن عطاء کی سند سے موصول بیان کیا ہے، ابن جریج نے عطاء سے پوچھا: کیا عبد اللہ بن زبیر سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آمین کہتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اور اس کے مقتدی بھی آمین کہتے تھے، حتی کہ مسجد گونج اٹھتی تھی۔ پھر انھوں نے کہا: آمین دعا ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں کہ یہ روایت مصنف عبد الرزاق (۲۶۴۰) میں ہے اور امام ابن حزم نے انہی کی سند کے ساتھ (المحلی: ۳/ ۳۶۴) میں بیان کی ہے۔ چونکہ ابن جریج نے یہ روایت عطاء سے براہِ راست لینے کی وضاحت کی ہے، اس لیے ان کی تدلیس کا خطرہ ٹل گیا ہے اور ابن زبیر کا اثر ثابت ہو گیا ہے۔ اسی قسم کا اثر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، ابو رافع کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان بن حکم کے مؤذن تھے۔ انھوں نے مروان پر شرط لگائی ہوئی تھی کہ وہ اس وقت تک {وَلَاالضَّآلِیْن} نہیں کہہ سکتا، جب ان کے آنے کا علم نہ ہو جائے۔ پس جب مروان {وَلَا الضَّاْلِیْن} کہتا تھا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آمین کہتے اور اپنی آواز کو لمبا کرتے اور کہتے تھے: جب زمین والوں کی آمین، آسمان والوں کی آمین سے موافقت کرتی ہے تو ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ (بیہقی: ۲/ ۵۹) اس کی سند صحیح ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے آمین بالجہر کہنا صحیح ثابت ہوگیا ہے، اس کے برعکس کسی صحابی سے کوئی اثر ثابت نہیں ہے، اس لیے اسی بات پر دل مطمئن ہو جاتا ہے کہ بلند آواز سے آمین کہنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۹۵۲)

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله: واخفي بھا صوته فقد أخطأ فيها شعبة۔ أخرجه الطيالسي: 1024
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں