الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأْمِينِ وَالْجَهْرِ بِهِ فِي الْقِرَاءَةِ وَإِخْفَائِهِ
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1595
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ {وَلَا الضَّالِّينَ} فَقَالَ آمِينَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس (آمین) کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1595]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 932، 933، والترمذي: 248، 249، وابن ابي شيبة: 2/ 425، والدارقطني: 1/ 333، والبيھقي: 2/ 57، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19048»
وضاحت: فوائد: … سنن بیہقی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: یَرْفَعُ بِھَا صَوْتَہٗ۔
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمین کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتے تھے۔ دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ آپ آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا بھی کرتے اور بلند بھی کرتے۔ (عبداللہ رفیق)
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمین کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتے تھے۔ دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ آپ آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا بھی کرتے اور بلند بھی کرتے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 932
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1595 in Urdu