الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ قِرَاءَةِ سُورَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ ، وَقِرَاءَةِ بَعْضِ سُورَةٍ وَجَوَازِ تَكَرُّرِ السُّورَةِ أَوِ الْآيَاتِ فِي رَكْعَةٍ
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے¤اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1603
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي رَكْعَةٍ؟ قَالَتْ: الْمُفَصَّلَ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت میں زیادہ سورتوں کو جمع کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: مفصل (سورتوں کو جمع کر لیتے تھے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 956، وابن خزيمة: 539، واسحاق بن راھويه: 1301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25385، 25687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26206»
وضاحت: فوائد: … مُفَصَّل سورتوں کا آغاز سورۂ حجرات یا سورۂ ق سے ہوتا ہے اور قرآن کے آخر تک جاری رہتا ہے۔
نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرضی نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔
نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرضی نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 956
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1603 in Urdu