🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ قِرَاءَةِ سُورَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ ، وَقِرَاءَةِ بَعْضِ سُورَةٍ وَجَوَازِ تَكَرُّرِ السُّورَةِ أَوِ الْآيَاتِ فِي رَكْعَةٍ
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے¤اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1606
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: بَلْ هَذَا كَهَذِهِ الشِّعْرِ أَوْ كَنَثْرِ الدَّقَلِ، لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْ كَمَا فَعَلْتَ، كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ الرَّحْمَنَ وَالنَّجْمَ فِي رَكْعَةٍ، قَالَ فَذَكَرَ أَبُو إِسْحَاقَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ بِعِشْرِينَ سُورَةً عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) آخِرُهُنَّ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَالدُّخَانُ
۔ (دوسری سند)ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: تو نے تو پھرشعر کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح تلاوت نہیں کرتے تھے، جیسے تونے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ملتی جلتی سورتوں (میں سے دو دو) کو ایک رکعت میں پڑھتے تھے، مثلا سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں۔ پھر ابو اسحاق نے بیس سورتوں کے ساتھ دس رکعتوں کا ذکر کیا،یہ ترتیب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف کے مطابق تھی، آخری سورتیں سورۂ تکویر اور سورۂ دخان تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1396، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3968»
وضاحت: فوائد: … ملتی جلتی سورتوں سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کا موضوع وعظ و نصیحت اور قصہ و حکمت کے اعتبار سے ایک بنتا ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر کوئی آدمی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتا ہے تو وہ ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کر سکتا ہے، کیونکہیہ مقدار چار پاروں سے کچھ زیادہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک رکعت میں اس مقدار سے زیادہ تلاوت کرنا بھی ثابت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک رکعت میں سورۂ بقرہ، سورۂ نساء اور سورۂ آل عمران کی تلاوت کی،یہ مقدار پانچ پاروںسے زیادہ ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مقصد یہہے کہ بعینہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کی جائے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1396


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1606 in Urdu