🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب فى فضل المؤمن وصفته ومثله
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 161
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ، نَفَعَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ النَّحْلَةِ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ وَلَمْ تُفْسِدْ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! بیشک مومن کی مثال سونے کے ٹکڑے کی طرح ہے، جب مالک (اسے بھٹی میں ڈال کر) اس پر پھونک مارتا ہے تو نہ وہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! بیشک مومن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے، جو (پھول جیسی) پاکیزہ چیز کھاتی ہے، (شہد جیسی) پاکیزہ چیز نکالتی ہے اور جب وہ کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو وہ اسے نہ توڑتی ہے، نہ خراب کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6872»
وضاحت: فوائد: … دو مثالوں کے ذریعے مومن کی تعریف کی گئی ہے، جن کی وضاحت یہ ہے کہ مومن سنجیدہ مزاج کا مالک ہوتا ہے، کوئی مجلس اس کے طرزِ حیات کو متاثر نہیں کر سکتی، شہد کی مکھی کی طرح وہ ہر ایک کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے، اور وہ جہاں مرضی بیٹھ جائے، کسی کو اس سے نقصان نہیں پہنچتا، ہر کوئی اس کے کرداراور طرز عمل کو پسند کرتا ہے اور اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے، مؤمن کو یہ شعور ہوتا ہے کہ اچھے لوگوں کی مجلس کے کیا حقوق ہیں اور برے لوگوں کی مجلس کے کیا تقاضے ہیں، وہ طیّب اور حلال چیزیں کھاتا ہے اور دینے کے لیے بھی ان ہی کا انتخاب کرتا ہے، وہ مشتبہ امور کے درپے نہیں ہوتا اور کسی کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتا۔ ہر شخص کو اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لینا چاہیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تمثیلوں پر بار بار غور کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 161 in Urdu