الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ سُجُودِ الْمُصَلِّي عَلَى ثَوْبِهِ لِحَاجَةٍ وَكَيْفَ يَسْجُدُ مَنْ زُوحِمَ
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے،¤نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 1745
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا قَالَ: ( (اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ) ) قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَذَلِكَ أَنْ يَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ إِذَا طَالَ السُّجُودُ وَأَعْيَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کہ اگر کشادگی اختیار کریں تو سجدے میں مشقت ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر گھٹنوں سے مدد حاصل کر لیا کرو۔ ابن عجلان کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ جب سجدہ لمبا ہو جائے اور بندہ تھک جائے تو اپنی کہنیاںگھٹنوں پر رکھ لے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1745]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 902، والترمذي: 286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8458»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں، وہ تو انتہائی واضح ہیں، اب تو اللہ تعالیٰ نے وسعت کر دی ہے اور ہر آدمی کے پاس اتنی سہولت موجود ہے کہ وہ نماز کے لیے علیحدہ کپڑا بچھا سکتا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی سخت گرمی اور گرم زمین کے باوجود صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں طویل نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 902
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1745 in Urdu