الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ سُجُودِ الْمُصَلِّي عَلَى ثَوْبِهِ لِحَاجَةٍ وَكَيْفَ يَسْجُدُ مَنْ زُوحِمَ
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے،¤نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 1740
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ يَتَّقِي بِفَضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑا لپیٹ کر اس میں نماز پڑھتے اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی اور سردی سے بچتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1740]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابو يعلي: 2446، والطبراني: 11520، وعبد الرزاق: 1369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2320»
الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه ابو يعلي: 2446
حدیث نمبر: 1741
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَيَسْجُدُ عَلَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم گرمی کی شدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کوئی شخص اپنے چہرے کو زمین پر رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیتا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 385، 1208، ومسلم: 620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11992»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا معنییہ ہوا کہ نمازی نے جو لباس پہنا ہوا ہو، اگر وہ دورانِ سجدہ پیشانی، ناک اور ہاتھوں کے سامنے حائل ہو جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 385
حدیث نمبر: 1742
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ إِذَا سَجَدَ
عبد اللہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس مسجد بنی عبد الاشہل میں تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے میں رکھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وقد وھم فيه عبد العزيز بن محمد الدراوري، فرواه عن اسماعيل بن ابي حبيبة، عن عبد الله بن عبد الرحمن، قال: جاء نا النبي صلي الله عليه وآله وسلم۔ ولم يقل: عن ابيه، عن جده، والاولي بالصواب ما رواه ابراهيم بن اسماعيل بن ابي حبيبة الاشھلي، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ثابت بن الصامت عن ابيه عن جده۔ ثم ان ابراهيم الاشھلي ضعيف، وعبد الله بن عبد الرحمن مجھول، وابوه عبد الرحمن لاتصح صحبته، وھو مجھول كذالك۔ ثم انه قد اختلف في اسناده، وانظر للتفصيل: 18953۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19161»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1743
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ وَهُوَ يَتَّقِي الطِّينَ إِذَا سَجَدَ بِكِسَاءٍ عَلَيْهِ يَجْعَلُهُ دُونَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ میں نے بارش والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کیچڑ سے بچتے تھے اور وہ اس طرح کہ جب آپ سجدہ کرتے تو جو چادر پہنی ہوئی تھی اس کا بعض حصہ زمین پر ہاتھوں کے نیچے رکھتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1743]
تخریج الحدیث: «حسن، وھذا اسناد ضعيف لضعف حسين بن عبد الله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2385»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1744
عَنْ سَيَّارِ بْنِ الْمَعْرُورِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنَى هَٰذَا الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ مَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فَإِذَا اشْتَدَّ الزِّحَامُ فَلْيَسْجُدِ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَلَى ظَهْرِ أَخِيهِ، وَرَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ: صَلُّوا فِي الْمَسْجِدِ
سیار بن معرور کہتے ہیں: میں نے سیدناعمر رضی اللہ عنہ کوخطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مسجد بنائی، جبکہ ہم مہاجر اور انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، پس جب ہجوم زیادہ ہو جائے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کی پیٹھ پر سجدہ کرلے۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو راستہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر ان کو کہا: مسجد میں نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1744]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وقد توبع سيار بن معرور۔ أخرجه الطيالسي: 70،والبيھقي: 3/ 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 217»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1745
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا قَالَ: ( (اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ) ) قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَذَلِكَ أَنْ يَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ إِذَا طَالَ السُّجُودُ وَأَعْيَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کہ اگر کشادگی اختیار کریں تو سجدے میں مشقت ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر گھٹنوں سے مدد حاصل کر لیا کرو۔ ابن عجلان کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ جب سجدہ لمبا ہو جائے اور بندہ تھک جائے تو اپنی کہنیاںگھٹنوں پر رکھ لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1745]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 902، والترمذي: 286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8458»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں، وہ تو انتہائی واضح ہیں، اب تو اللہ تعالیٰ نے وسعت کر دی ہے اور ہر آدمی کے پاس اتنی سہولت موجود ہے کہ وہ نماز کے لیے علیحدہ کپڑا بچھا سکتا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی سخت گرمی اور گرم زمین کے باوجود صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں طویل نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔
الحكم على الحديث: اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 902