الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب التعوذ والدعاء بعد الصلاة على النبي
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
حدیث نمبر: 1812
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7236»
وضاحت: فوائد: … مَسِیْح کے مختلف معانییہ ہیں:(۱)اس سے مراد مَمْسْوْحُ الْعَیْن ہے، یعنی جس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہو گی۔ (۲) یہ فعیل بمعنی فاعل ہے، یعنی زمین کا سروے کرنے والا۔ (۳) اس سے مراد بھینگا ہے۔ دَجَّال کا مادہ دجل ہے، جس کے معانی ڈھانپنے کے ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ دجال اپنے باطل کے ذریعے حق پر پردہ ڈال دے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1812 in Urdu