الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب التعوذ والدعاء بعد الصلاة على النبي
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
حدیث نمبر: 1816
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، قَالَ: فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ) ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر کے تشہد میں یہ دعا کر رہا ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْیَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو یکتا و یگانہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے، یہ کہ تو میرے لیے میرے گناہ بخش دے، بیشک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے، بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ یعنی تین مرتبہ فرمایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود 985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19183»
وضاحت: فوائد: … آخری دو احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد میں کوئی بھی پسندیدہ دعا کی جا سکتی ہے، سابقہ ابواب میں بھی اس مسئلہ کی توضیح موجود ہے، مزید دعاؤں کا ذکر آنے والے دوسرے باب میں آئے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1816 in Urdu