الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابُ جَامِعِ أَدْعِيَةٍ مَنْصُوصٍ عَلَيْهَا فِي الصَّلَاةِ
نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 1822
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَمَا إِنِّي دَعَوْتُ فِيهَا بِدُعَاءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ: ( (اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبِ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَاعَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي، أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَلَذَّةَ النَّظْرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَاءَ مُضِرَّةٍ وَمِنْ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ) )
ابو مجلز کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، انھوں نے اس میں اختصار کیا، اس لیے لوگوں نے اس چیز کا انکار کیا،لیکن انھوں نے کہا: کیا میں نے رکوع وسجود کو پوری طرح ادا نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: میں نے تو اس نماز میں ایسی دعا کی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے، وہ دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ … … وَالشَّہَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰیَ، وَلَذَّۃَ النَّظْرِ إِلٰی وَجْہِکَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَمِنْ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الإِْ یْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مَھْدِیِّیْنَ۔ (اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کی وجہ سے تجھ (سے سوال کرتا ہوں کہ) جب تک تو میرے لئے زندگی کو بہتر سمجھے مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے وفات بہتر ہو تو مجھے فوت کر دینا، میں تجھ سے خلوت اور جلوت (دونوں حالتوں میں) میں تیری خشیت کا، غصے اور خوشی میں کلمۂ حق کہنے کا، فقیری اورمالداری میں میانہ روی اختیار کرنے کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کا شوق رکھنے کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں نقصان پہنچانے والی مصیبت سے اور گمراہ کرنے والے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ ہمیں ایمان کی زینت سے مزین کر دے اور ایسے رہنما بنا دے جو خود بھی ہدایت یافتہ ہوں)۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1822]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 3/55، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18515»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے ابتدائی حصے پر غور کریں، اگر رکوع و سجود مکمل ہوں تو قیام میں تخفیف کر لینے میں کوئی حرج نہیں، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے واضح کیا کہ ٹھیک ہے کہ اس نے لمبا قیام تو نہیں کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ایسی دعا بھی تو کی ہے، جو بڑی خیر پر مشتمل ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 3/55
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1822 in Urdu