الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ
نماز میں سبحان اللہ کہنے، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
حدیث نمبر: 1940
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صُهَيْبٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً وَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صہیب نامی صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تو آپ نے اشارہ کر کے مجھ پر (سلام کا جواب) لوٹایا، راوی کہتا ہے: میں تو نہیں جانتا مگر یہی بات کہ انھوں نے انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1940]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 925، والترمذي: 367، والنسائي: 3/ 5، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19139»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 925
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1940 in Urdu