الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ
نماز میں سبحان اللہ کہنے، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
حدیث نمبر: 1941
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ لوگ جب نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1941]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 927، والترمذي: 368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24383»
وضاحت: فوائد: … ابوداود کی روایت کے مطابق ہاتھ سے اشارہ کرنے کی کیفیتیہ تھی: ہاتھ کو اس طرح پھیلانا کہ ہتھیلی کی پشت اوپر کی طرف اور اندرونی حصہ نیچے کی طرف ہو۔ اس حدیث میں لوگوں سے مراد اہل قبا ہے، کیونکہ بعض روایات مین یہ وضاحت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبا میں جاتے تھے، وہاں کے لوگ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہوتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً اشارہ کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 927
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1941 in Urdu