الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1952
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَمَشَى فِي الْقِبْلَةِ إِمَّا عَنْ يَمِينِهِ وَإِمَّا عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے دروازے پر دستک دی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، پس آپ دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے قبلہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ میرے لیے دروازہ کھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی جائے نماز پر لوٹ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26499»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1952 in Urdu