الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1953
عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْأَهْوَازِ عَلَى حَرْفِ نَهْرٍ وَقَدْ جَعَلَ اللِّجَامَ فِي يَدِهِ وَجَعَلَ يُصَلِّي، فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تَنْكُصُ وَجَعَلَ يَتَأَخَّرُ مَعَهَا، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اخْزِ هَٰذَا الشَّيْخَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتًّا أَوْ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيَةً فَشَهِدْتُ أَمْرَهُ وَتَيْسِيرَهُ، فَكَانَ رُجُوعِي مَعَ دَابَّتِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ تَرْكِهَا فَتَنْزِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ، وَصَلَّى أَبُو بَرْزَةَ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ
ازرق بن قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اہواز مقام میں دریا کے ایک کنارے پر تھے، انھوں نے سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں پکڑ کر نماز شروع کر دی، اتنے میں سواری پیچھے ہٹنے لگ گئی اور وہ بھی اس کے ساتھ پیچھے ہونے لگ گئے، ایک خارجی آدمی نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اے اللہ! اس شیخ کو ذلیل کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہا ہے۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے تمہاری بات سنی ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ غزوے کیے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاملات اور آسانی کا مشاہدہ کیا،(جن سے میں نے یہ استدلال کیا کہ) میرا نماز کے اندر سواری کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا، یہ اس سے ہلکا تھا کہ میں اس کو چھوڑ دیتا اور وہ اپنی چراگاہ کی طرف چلی جاتی اور یہ میرے لیے مشقت کا باعث بنتی۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے دو رکعت عصر کی نماز پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1211 دون تعيين الصلاة وعدد ركعاتھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20008»
وضاحت: فوائد: … یقینا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصتوںکی روشنی میں اس انداز میں نماز پڑھنے کو درست سمجھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1211 دون تعيين الصلاة وعدد ركعاتھا
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1953 in Urdu