الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1974
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّى بِنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَيْنَا بَعْدَ صَلَاتِهِ فَقَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَسَجَدَ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَأَعْلَمَنَا أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند)مرہ بن معبد کہتے ہیں: یزید بن ابو کشبہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، انہوں نے اسی طرح دو سجدے کیے تھے، پھر وہ ہماری طرف پھرے اور ہمیں یہ بتلایا کہ انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تھا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1974]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أورده البخاري في تاريخه الكبير: 8/ 355، وأخرجه أبو نعيم في معرفة الصحابة: 285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 451»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أورده البخاري في تاريخه الكبير : 8/ 355
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1974 in Urdu