الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1975
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: ( (لَا، وَمَا ذَٰكَ؟) ) قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَيْهِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: ( (إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّلَاةَ، فَإِذَا سَلَّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ) )
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی،مجھےیہ یاد نہیں رہا کہ زیادتی ہو گئی تھی یا کمی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہو گئی ہے؟ آ پ نے فرمایا: (نہیں، اور وہ کیا ہے (جو تم محسوس کر رہے ہو)؟ لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی نماز پڑھائی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہوکے دو سجدے کئے، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو اسی طرح میں بھی بھول جاتا ہوں، جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ نماز (کی رکعتوں کی تعداد کی درست صورت کو) تلاش کرے اور جب سلام پھیرے تو دو سجدے کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 401، 6671، ومسلم: 572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3602»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 401
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1975 in Urdu