الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابٌ فِي تَقْدِيرِ حَالِ الْإِنْسَانِ وَهُوَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
حدیث نمبر: 198
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا رِزْقُهُ؟ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا أَجَلُهُ؟ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! ذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيُعْلَمُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيُعْلَمُ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نطفہ رحم میں چالیس دن یا راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتے ہیں، پس وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! اس کا رزق کیا ہے؟ پس اسے جواب دیا جاتا ہے، پھر وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! اس کی موت کب ہو گی؟ پس اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ سوال کرتا ہے: اے میرے رب! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث؟ سو اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ پھر یہ بھی اس کو بتلا دیا جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15342»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 198 in Urdu