الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابٌ فِي تَقْدِيرِ حَالِ الْإِنْسَانِ وَهُوَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، (وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَوْ خَمْسَةٌ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً) فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا ذَا، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيُكْتَبَانِ، فَيَقُولُ: مَا ذَا؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُكْتَبَانِ، فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَثَرُهُ وَمَصِيبَتُهُ وَرِزْقُهُ، ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ فَلَا يُزَادُ عَلَى مَا فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ) )
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نطفہ رحم میں چالیس یا پینتالیس راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اس پر ایک فرشتہ داخل ہوتا ہے اور وہ سوال کرتا ہے: اے میرے رب! کیا حکم ہے، بدبخت ہے یا خوش بخت؟ مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں لکھ لی جاتی ہیں، پھر وہ کہتا ہے: کیا حکم ہے، مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ چیزیں بھی لکھ دی جاتی ہیں، پھر اس کا عمل، عمر، مصیبت اور رزق لکھا جاتا ہے اور صحیفہ کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور اس میں زیادتی کی جا سکتی ہے نہ کمی۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2644، 2645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16241»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2644
Al-Fath al-Rabbani Hadith 199 in Urdu