الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ لِلْمُصَلِّي وَمَا يَدْفَعُ ذَلِكَ
نمازی کے لیے شیطان کے وسوسے ڈالنے اور اسے دفع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1988
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَالَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَبَيْنَ قِرَائَتِي، قَالَ: ( (ذَٰكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خِنْزَبٌ فَإِذَا أَنْتَ حَسَسْتَهُ فَتَعَوِّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفُلْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا) ) ، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَٰكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِّي
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! شیطان میرے اور میری نماز اور قراءت کے درمیان حائل ہوگیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ شیطان ہے، اس کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ اور تین دفعہ اپنی بائیں جانب تھوک دے۔ انھوں نے کہا: پس میں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وسوسہ ختم کردیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1988]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18057»
وضاحت: فوائد: … یقینی طور پر اس وقت نمازیوں کی بھاری تعداد حقیقی نماز سے غافل ہے اور کئی قسم کے وسوسوں میں مبتلا ہے، لیکن جب کسی کو اِس حدیث میں مذکورہ طریقہ بتلایا جاتا ہے تو غفلت کی وجہ سے یا دوسرے لوگوں سے جھجک کر اس پر عمل بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ قارئین کرام! آپ شہادت دیں گے کہ آپ نے بہت کم کسی نمازی کو دیکھا ہو گا کہ وہ نماز کے اندر اس طرح شیطان سے پناہ مانگے، حالانکہ یہ بات یہیقینی ہے کہ اس وقت نمازیوں کی بھاری تعداد حقیقی نماز سے غافل ہے اور کئی قسم کے وسوسوں میں مبتلا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ طریقۂ نبوی استعمال نہیں کیا جاتا، اس کی کئی وجوہات ہیں، مثلا: غفلت، دین میں عدم دلچسپی، فکر ِ آخرت کی کمی، لوگوں سے جھجک، جلد بازی، عبادت کے معیار سے ناواقفیت، نماز کے کلمات کو نہ سمجھنا۔ وغیرہ۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2203
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1988 in Urdu