🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ لِلْمُصَلِّي وَمَا يَدْفَعُ ذَلِكَ
نمازی کے لیے شیطان کے وسوسے ڈالنے اور اسے دفع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1986
عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَمَّارًا (يَعْنِي بْنَ يَاسِرٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! لَا أَرَاكَ إِلَّا خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: هَلْ نَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، وَلَٰكِنْ خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا السَّهْوَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهُ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا عُشْرُهَا أَوْ تُسْعُهَا أَوْ ثُمَنُهَا أَوْ سُبُعُهَا، …) ) حَتَّى انْتَهَى إِلَى آخِرِ الْعَدَدِ
سیدنا عماربن یاسر رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی، عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابو الیقظان! میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے اس کی حدود و قیود میں سے کسی چیز کی کمی کی ہے؟ وہ کہنے لگے: نہیں، لیکن آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: (اصل بات یہ ہے کہ) میں نے بھولنے سے پہلے جلدی جلدی ان کو ادا کر لیا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک آدمی تو نماز پڑھتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس کے لیے اس کی نماز سے نہ ہو مگر دسواں حصہ، یا نواں حصہ، یا آٹھواں حصہ، یا ساتواں حصہ، …۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری عدد تک پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1986]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البزار في مسنده: 1420، وابن حبان: 1889، ورواه النسائي في الكبري: 611، وابن ابي شيبة: 1/340 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19085»

الحكم على الحديث: صحيح۔ أخرجه البزار في مسنده : 1420
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1987
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَاصِمِ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ أَخَفَّهُمَا وَأَتَمَّهُمَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَجَلَسْنَا عِنْدَهُ ثُمَّ قُلْنَا لَهُ لَقَدْ خَفَّفْتَ رَكْعَتَيْكَ هَاتَيْنِ جِدًّا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! فَقَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا الشَّيْطَانَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ فِيهِمَا، قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند)ابن لاس خزاعی کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی، وہ بہت تخفیف والی تھیں، لیکن مکمل بھی تھیں، پھر وہ بیٹھ گئے، ہم کھڑے ہوئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، ہم نے کہا: ابو الیقظان! آپ نے ان دو رکعتوں میں تخفیف کی ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے ان کو اپنے اندر شیطان کے داخل ہونے سے پہلے ادا کر لیا ہے، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1987]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18513»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انھوں نے نماز تو اختصار سے پڑھی ہے، لیکن پوری توجہ کے ساتھ ادا کی ہے، اگر وہ طوالت اختیار کرتے تو ممکن تھا کہ شیطان دوسرے خیالات میں مبتلا کر دیتا۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ہماری شریعت میں طویل قیام محبوب عمل ہے اور نماز میں شیطان کے وسوسوں سے بچنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو طریقہ بتلایا ہے، اس کا بیان اگلی حدیث ِ مبارکہ میں آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1988
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَالَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَبَيْنَ قِرَائَتِي، قَالَ: ( (ذَٰكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خِنْزَبٌ فَإِذَا أَنْتَ حَسَسْتَهُ فَتَعَوِّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفُلْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا) ) ، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَٰكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِّي
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! شیطان میرے اور میری نماز اور قراءت کے درمیان حائل ہوگیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ شیطان ہے، اس کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ اور تین دفعہ اپنی بائیں جانب تھوک دے۔ انھوں نے کہا: پس میں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وسوسہ ختم کردیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1988]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18057»
وضاحت: فوائد: … یقینی طور پر اس وقت نمازیوں کی بھاری تعداد حقیقی نماز سے غافل ہے اور کئی قسم کے وسوسوں میں مبتلا ہے، لیکن جب کسی کو اِس حدیث میں مذکورہ طریقہ بتلایا جاتا ہے تو غفلت کی وجہ سے یا دوسرے لوگوں سے جھجک کر اس پر عمل بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ قارئین کرام! آپ شہادت دیں گے کہ آپ نے بہت کم کسی نمازی کو دیکھا ہو گا کہ وہ نماز کے اندر اس طرح شیطان سے پناہ مانگے، حالانکہ یہ بات یہیقینی ہے کہ اس وقت نمازیوں کی بھاری تعداد حقیقی نماز سے غافل ہے اور کئی قسم کے وسوسوں میں مبتلا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ طریقۂ نبوی استعمال نہیں کیا جاتا، اس کی کئی وجوہات ہیں، مثلا: غفلت، دین میں عدم دلچسپی، فکر ِ آخرت کی کمی، لوگوں سے جھجک، جلد بازی، عبادت کے معیار سے ناواقفیت، نماز کے کلمات کو نہ سمجھنا۔ وغیرہ۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2203
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں