الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب من سلم من ركعتين وفيه ذكر قصة ذي اليدين
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے قصے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 1990
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الشَّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ: أَخُفِّفَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟) ) قَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ! فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ
۔ (تیسری سند) سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالشمالین بن عبد عمرو رضی اللہ عنہ، بنو زہرہ کے حلیف تھے، نے آپ سے کہا: آیا نماز میں تخفیف کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس نے سچ کہا ہے، پھر آپ نے ان کو ساتھ لے کر وہ دو رکعتیں مکمل کیں، جو رہ گئی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في المؤطا: 1/ 94، وابوداود: 1013، والنسائي: 3/ 25، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7653»
وضاحت: فوائد: … ائمۂ حدیث کا اتفاق ہے کہ اس حدیث میں امام زہری کو وہم ہوا، جس کی وجہ سے انھوں نے اس قصے کو ذوالشمالین بن عبد عمرو کی طرف منسوب کر دیا، حالانکہ یہ صحابی غزوۂ بدر میں شہید ہو گئے تھے اور اس حدیث میں بیان کیا گیا واقعہ سات سن ہجری کے بعد پیش آیا تھا، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے، سنن نسائی کی ایک روایت میں بھی ذوالشمالین ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مالك في المؤطا : 1/ 94
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1990 in Urdu