🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ
نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2042
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ) )
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے کا اپنے گھر میں نفل نماز ادا کرنا نور ہے، جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منور اور روشن کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2042]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 513، والبزار: 210، وابويعلي: 165، وابن خزيمة: 2172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 86 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 86»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں لوگ دو گروہوں میں منقسم ہو چکے ہیں، کچھ جدت پرستوں کی مساجد سے لاتعلق اور بیزارییوں لگتی ہے کہ شاید وہ مسجد کو گرجا گھر سمجھ بیٹھے ہیں اور بعض لوگ فرضی اور نفلی تمام نمازوں کے لیے مسجد کا ہی تعین کرتے ہیں،یہ دونوں گروہ راہِ اعتدال سے منحرف ہو کر افراط و تفریط کا شکار ہیں، چاہئے یہ کہ فرضی نمازوں کے لئے بہر صورت اللہ تعالیٰ کی مساجد کا اہتمام کیا جائے اور نفلی نمازوں کے لیے گھروں کو اور مخفی مقامات، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کو ترجیح دی جائے، اس موقع پر درج ذیل حدیث ذہن نشین رکھی جائے: ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: تَطَوُّعُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہٖیَزِیْدُ عَلٰی تَطَوُّعِہٖعِنْدَالنَّاسِ،کَفَضْلِصَلاَۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلاَتِہٖوَحْدَہٗ۔ (مصنفعبدالرزاق:۳/۷۰/۴۸۳۵، ابن أبي شیبۃ: ۲/۲۵۶، صحیحہ: ۳۱۴۹) یعنی: آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنے کا ثواب لوگوں کے پاس پڑھنے کی بہ نسبت اتنا زیادہ ہے جتنا کہ اکیلی فرضی نماز کے مقابلے میں باجماعت نماز کا اجرو ثواب ہے۔ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع کا ہے، کیونکہ اس کا اجتہاد اور ذاتی رائے سے کوئیتعلق نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 513


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2042 in Urdu