الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
مغرب سے پہلے دو رکعتوںکا بیان
حدیث نمبر: 2082
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِي حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالإِقَامَةِ إِلَّا قَرِيبٌ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب مؤذن مغرب کی اذان کہتا توصحابہ کرام مغرب سے پہلے دو رکعتیں ادا کرنے کے لیے ستونوں کی طرف لپکتے، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو وہ اسی حالت میں ہوتے تھے، اور اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2082]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13983 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14028»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام مسجد میں بھی سترے کا اہتمام کرتے تھے۔ ایک روایت میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: کَانَ الْمُؤَذِّنُ یُؤَذِّنُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِصَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، فَیَبْتَدِرُ لُبَابُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم السَّوَارِیَ،یُصَلُّوْنَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، حَتّٰییَخْرُجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ فَیَجِیْئُ الْغَرِیْبُ فَیَحْسَبُ أَنَّ الصَّلَاۃَ قَدْ صُلِّیَتْ مِنْ کَثْرَۃِ مَنْ یُّصَلِّیْھَا، وَکَانَ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَۃِیَسِیْرٌ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جب مؤذن نمازِ مغرب کی اذان سے فارغ ہوتا تو برگزیدہ صحابۂ کرام ستونوں کی طرف لپکتے اور (انھیں سترہ بنا کر) مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تووہ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ لوگ اتنی کثرت سے یہ دو رکعتیں پڑھتے کہ اجنبی آدمی کو محسوس ہوتا کہ نماز پڑھی جا چکی ہے (اور لوگ بعد والی سنتیں ادا کر رہے ہیں)۔ اور اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا۔ (صحیح بخاری:۲/۸۵، صحیح مسلم: ۲/ ۲۱۲)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 625
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2082 in Urdu