الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
مغرب سے پہلے دو رکعتوںکا بیان
حدیث نمبر: 2083
عَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَسْمَعُ أَذَانَ الْمَغْرِبِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَغْمِصَهُ، قَالَ عُقْبَةُ: أَمَا إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشُّغْلُ
ابو الخیر کہتے ہیں: میں نے ابو تمیم عبد اللہ بن مالک جیشانی کو مغرب کی اذان سنتے ہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا،یہ دیکھ کر میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اوران سے کہا: کیا میں آپ کو ابو تمیم جیشانی کی بات سنا کر تعجب میں نہ ڈالوں، وہ تو مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میں ان پر عیب لگاؤں، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خبر دار! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھاکرتے تھے، میں نے کہا: تو پھر اب آپ کو کونسی چیز منع کرتی ہے؟ انہوں نے کہا: مصروفیت۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1184، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17552»
وضاحت: فوائد: … آج کل بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو نماز مغرب سے پہلے دو رکعت ادا کرنے سے مکمل اجتناب کرتے ہیں اور ایسا کرنے والوں پر اس وجہ سے عیب لگاتے ہیں، اِن لوگوں کو سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا جواب یاد رکھنا چاہیے۔ یہ صحابۂ کرام کی انصاف پسندی ہے کہ وہ حدیث ِ رسول پر آنچ نہیں آنے دیتے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1184
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2083 in Urdu