🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
مغرب سے پہلے دو رکعتوںکا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2085
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لِمَنْ شَاءَ) )
سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، اُس کے لئے جو چاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20818»
وضاحت: فوائد: … نماز مغرب سے پہلے والی دو رکعت نماز پر دلالت کرنے والے مزید دلائل بھی موجود ہیں،یہاں ان کا احاطہ مقصود نہیں ہے، البتہ ایک فعلی حدیث ذکر کر دیتے ہیں، تاکہ مسئلہ زیادہ واضح ہو جائے۔ سیدنا عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَلّٰی قَبْلَ الْمَغْرِبِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ (صحیح ابن حبان: ۱۵۸۶) علامہ سندھی حنفی نے کہا: ظاہر تو یہی ہے کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں جائز بلکہ مندوب ہیں، میں منع کرنے والوں کے پاس کوئی شافی جواب نہ پا سکا۔ (حاشیۃ السندھی علی النسائی: ۱/ ۲۸۳،۲/ ۲۸) معلوم نہیں کہ بعض لوگ اس موضوع پر صحیح اور صریح روایات ہونے کے باوجود ان دو رکعتوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے تحت لکھا: اس حدیث ِ مبارکہ سے نمازِ مغرب سے قبل دو رکعت پڑھنے کی واضح مشروعیت ثابت ہوتی ہے، کیونکہکبار صحابہ نے ان کا اہتمام کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو برقرار رکھا، دوسری عام احادیث سے بھی اس نماز کا ثبوت ملتا ہے، مثلا سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَامِنْ صَلَاۃٍ مَفْرُوْضَۃٍ إِلَّا وَبَیْنَیَدَیْھَا رَکْعَتَانِ۔)) (صحیح ابن حبان: ۶۱۵، صحیحۃ: ۲۳۲) … نہیں ہے کوئی فرضی نماز، مگر اس سے پہلے (کم از کم) دو رکعت (نفلی نماز) ہے۔ امام احمد، امام اسحق اور محدثین کا یہی مذہب ہے، لیکن بعض مقلد مغرب سے پہلے دو رکعت نفل پر دلالت کرنے والی ان صریح احادیث کو ردّ کر دیتے ہیں۔ (صحیحہ: ۲۳۴)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 838


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2085 in Urdu