الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابٌ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
حدیث نمبر: 210
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يُؤْمِنُ الْمَرْءُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ) ) قَالَ أَبُو حَازِمٍ: لَعَنَ اللَّهُ دِينًا أَنَا أَكْبَرُ مِنْهُ، يَعْنِي الْتَكْذِيبَ بِالْقَدَرِ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لاتا۔“ ابو حازم رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس دین پر لعنت کرے کہ میں جس سے بڑا ہوں، ان کی مراد تقدیر کو جھٹلانے پر (رد کرنا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6703»
وضاحت: فوائد: … ابو حازم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس دین کی کیا اہمیت ہے کہ جس میں تقدیر پر ایمان لانے کی شق نہیں پائی جاتی، ایسا دین تو اتنا ناقص ہو گا کہ وہ ابو حازم سے بھی کم تر ہو گا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 210 in Urdu