الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابٌ فِي الْعَمَلِ مَعَ الْقَدَرِ
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 215
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ( (مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ) ) قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَلِمَ نَعْمَلُ؟ قَالَ: ( (اعْمَلُوا! فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ) ) {أَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى}
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کو کرید رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی منزل کا علم ہو چکا ہے کہ وہ جنت ہے یا جہنم۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر ہم عمل کیوں کر رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے،“ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ» جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور (اپنے رب سے) ڈرا اور نیک بات کی تصدیق کی، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی، تو ہم بھی اسی کے لیے اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (سورۂ لیل: ۵ تا ۱۰) [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4946، 4949، 7217، ومسلم: 2647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 621»
وضاحت: فوائد: … ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ نیکی اور اطاعت کی توفیق اس کو ملتی ہے، جو خیر کے امور سرانجام دینے اور محارم سے بچنے کے لیے مستعد ہو اور حسب ِ استطاعت ان کی پابندی کر رہا ہے، اس کے برعکس جو شخص بخل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے بے پرواہی برتتا ہے تو اس کے لیے برائیوں کے سلسلے کو برقرار رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک مثال سے بات کو واضح کر دیتے ہیں، جب نمازِ فجر کا وقت ہوتا ہے، تو اس وقت بعض لوگوں کا سویا رہنا ان کے حق میں قیامت ِ صغری سے کم نہیں ہوتا اور اس وقت ان کو نیند ہی نہیں آتی، پس وہ سکون سے اٹھ جاتے ہیں اور نماز ادا کر کے اطمینان حاصل کر لیتے ہیں، لیکن بعض ایسے منحوس بھی ہوتے ہیں کہ اس نماز کے لیے اٹھنا ان پر اس قدر گراں گزرتا ہے کہ وہ سوئے رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، اول الذکر لوگ عمل صالح کرنے کی رغبت رکھتے تھے، سو ان کے لیے عمل آسان ہو گیا اور مؤخر الذکر میں یہ رغبت نہیں، پس وہ بڑے محروم ٹھہرے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4946
Al-Fath al-Rabbani Hadith 215 in Urdu