الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب فى هجر المكذبين بالقدر والتغليظ عليهم
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 225
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ، أَلَا وَذَكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالزَّنْدِقَةِ) )
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں بھی مسخ ہو گا (یعنی شکلیں بگڑ جائیں گی)، خبردار! یہ تقدیر کو جھٹلانے والوں اور زندیقوں میں ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد۔ أخرجه الترمذي: 2153، وابن ماجه: 4061، والترمذي: 2152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5867»
وضاحت: فوائد: … زندیقوں سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو سرے سے ربوبیت اور آخرت کو تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ ہیں جن کے باطن میں کفر ہوتا ہے، لیکن وہ اظہار ایمان کا کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 225 in Urdu