الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ افْتِرَاضِ صَلَاةِ السَّفَرِ وَحُكْمِهَا
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2350
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ لِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ) )
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ اگر تمہیں ڈر ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کی یہ رخصت قبول کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 174»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 686
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2350 in Urdu