الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب جواز الاقتداء بإمام بينه وبين المأموم حائل
مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو
حدیث نمبر: 2608
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي حُجْرَتِهِ فَجَاءَ أُنَاسٌ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَخَفَّفَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَعَادَ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّيْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ، قَالَ: ( (قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات حجرے میں نماز پڑھی، کچھ لوگ آئے اور انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں تخفیف کردی اور پھر گھر میں داخل ہو گئے، (وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل نمازپڑھی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے (اور ان کو ہلکی سی نماز پڑھائی)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی مرتبہ لوٹے، ہر دفعہ نماز پڑھی۔ جب صبح ہوئی تو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز پڑھی تھی اور ہم یہ پسند کر رہے تھے کہ آپ نماز کو لمبا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق میں تمہارے مکان ((اور تمہاری اس حالت)) کو جان گیا تھا اور میں نے جان بوجھ کر یہ کام کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه البزار: 731، وابويعلي: 3755، وابن خزيمة: 1627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12028»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه البزار: 731
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2608 in Urdu