🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب فيما جاء فى ذم كثرة السؤال فى العلم لغير حاجة
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 264
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ( (ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَمَا أَمَرْتُكُمْ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں، تم بھی مجھے چھوڑے رکھو، تم سے پہلے والے لوگ کثرتِ سوال اور انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا حکم دے دوں، اس پر حسبِ استطاعت عمل کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7288، ومسلم: 1337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7361»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد اور صحیح مسلم کی روایات کے مطابق اس حدیث ِ مبارکہ کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوْا۔)) … لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کر دیا ہے، پس تم حج کرو۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً خاموش رہے، لیکن جب اس نے تین دفعہ یہ سوال دہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کے ساتھ جواب دیتا تو یہ (ہر سال) فرض ہو جاتا، جبکہ تم لوگوں کو یہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہوتی۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرمائے۔ یہ اصول فقہ کا مسلّمہ قانون ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطلق طور پر دیا گیا حکم ایک دفعہ عمل کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کر دیا ہے، لہٰذا حج کرو، اب جو آدمی زندگی میں ایک دفعہ حج کر لے گا، وہ اس حدیث میں دیئے گئے حکم کے تقاضے کو پورا کر دے گا، لہٰذا یہ سوال کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہو گی کہ ایک دفعہ فرض ہے یا ہر سال۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7288


Al-Fath al-Rabbani Hadith 264 in Urdu