الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي ذَمِّ كَثْرَةِ السُّؤَالِ فِي الْعِلْمِ لِغَيْرِ حَاجَةٍ
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 265
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ حَتَّى أُنْزِلَ فِي ذَلِكَ الشَّيْءِ تَحْرِيمٌ مِنْ أَجَلِ مَسْأَلَتِهِ) )
سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جرم کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس قدر چھان بین کرتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کے حرام ہونے کا حکم نازل ہو جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 265]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 8289، ومسلم: 2358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1520»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 8289
Al-Fath al-Rabbani Hadith 265 in Urdu