الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب الحث على تسوية الصفوف ورصها وبيان خيرها من شرها
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2640
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْكَرْتَ مِنْ عَهْدِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا أَنْكَرْتُ مِنْكُمْ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ صُفُوفَكُمْ
بشیر بن یسار کہتے ہیں: سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (بصرہ سے) مدینہ منورہ تشریف لائے، ہم نے ان سے کہا: آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی بہ نسبت کون سی چیز عجیب اور نئی لگ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میں تمہارے اندر کسی چیز کو عجیب محسوس نہیں کر رہا، البتہ یہ چیز ہے کہ تم اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر نہیں کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12109، 12124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12148»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 724
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2640 in Urdu