الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2636
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟) ) قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى هَٰذِهِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ وَأَقِيمُوهَا وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي، فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقُولُوا اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِنَّ خَيْرَ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرَّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرَ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرَّهَا الْمُقَدَّمُ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأَزُرِ) )
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے امور کی طرف نہ کروں کہ اللہ جن کے ذریعے خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگیوں کے باوجود مکمل وضو کرنا، اِن مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر آنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو آدمی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلتا ہے اورمسلمانوں کے ساتھ ایک نماز ادا کر کے اُسی جائے نماز میں دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے، تو فرشتے اس کے لیے یہ دعا کرتے ہیں: اے اللہ!اس کو معاف کر دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو برابر اور سیدھا کیا کرو اور شگافوں کو پر کر دیا کرو، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو،جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اورجب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔بے شک مرودں کی بہترین صف اگلی صف ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بہترین صف پچھلی ہے اور ان کی بری صف اگلی صف ہے، اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظریں نیچی رکھا کرو، تاکہ ان کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2636]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا سند حسن في المتابعات أخرجه مطولا ومختصرا ابن ماجه: 427، وابن ابي شيبة: 1/ 7، 2/ 385، والبيھقي: 2/ 16، وابن خزيمة: 177، 357، 1562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11007»
وضاحت: فوائد: … ”بری صف“ سے مراد اجرو ثواب سے کمی والی بات ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2637
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی بہترین صف اگلی ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بری ترین صف اگلی ہے اور ان کی بہترین صف پچھلی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2637]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 440، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8409»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 440
حدیث نمبر: 2638
(وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ) ثُمَّ قَالَ: ( (يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأَزُرِ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظروں کو نیچا رکھا کرو، تاکہ مردوں کے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2638]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة في ’’مسنده‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14169»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة في ’’مسنده‘‘
حدیث نمبر: 2639
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز میں صف کو سیدھا اور برابر کرو، پس بے شک صف کا سیدھا اور برابر کرنا نماز کی خوبصورتی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2639]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 722، ومسلم: 435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8157 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8142»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ فَاِنِّیْ أَرَاکُمْ مِنْ وَّرَائِ ظَھْرِیْ۔)) وَکَانَ أَحَدُنَا یُلْزِقُ مَنْکِبَہٗ بِمَنْکِبِ صَاحِبِہٖ وَقَدَمَہٗ بِقَدَمِہٖ)) یعنی: ”صفوں کو سیدھا رکھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ لیتا ہوں۔“ ہم (صف میں اپنے ساتھ کھڑے) ساتھی کے کندھے کے ساتھ کندھا اور پاؤں کے ساتھ پاؤںملاتے تھے۔ (بخاری: ۷۲۵)
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 722
حدیث نمبر: 2640
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْكَرْتَ مِنْ عَهْدِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا أَنْكَرْتُ مِنْكُمْ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ صُفُوفَكُمْ
بشیر بن یسار کہتے ہیں: سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (بصرہ سے) مدینہ منورہ تشریف لائے، ہم نے ان سے کہا: آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی بہ نسبت کون سی چیز عجیب اور نئی لگ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میں تمہارے اندر کسی چیز کو عجیب محسوس نہیں کر رہا، البتہ یہ چیز ہے کہ تم اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر نہیں کرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12109، 12124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12148»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 724
حدیث نمبر: 2641
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَيَقُولُ: ( (تَرَاصُّوا (وَفِي رِوَايَةٍ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا) وَاعْتَدِلُوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتے اورفرماتے: آپس میں مضبوطی سے مل جاؤ، (اور ایک روایت میں ہے: اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، اور آپس میں مل جاؤ) اور برابر ہو جاؤ، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2641]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 718، 725، ومسلم: 434، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12011، 13396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13429»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَقِیْمُوْا الصُّفُوْفَ وَ حَاذُوْا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَ سُدُّوْا الْخَلَلَ وَلِیْنُوْا بِاَیْدِیْ اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللّٰہُ وَ مَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (ابوداود) یعنی: ”صفوں کو سیدھا کرو، کندھوں کو برابر کرو، خلا کو پر کرو، اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہو جاؤ، شیطان کے لیے (صف میں) خالی جگہیں مت چھوڑو، جس نے صف کو ملایا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا اور جس نے صف کو کاٹا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا“۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 718
حدیث نمبر: 2642
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّا أَخَذْنَا ذَلِكَ عَنْهُ وَفَهِمْنَاهُ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ بِوَجْهِهِ فَإِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِهِ، فَقَالَ: ( (لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ) )
سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں صفوں میں ایسے سیدھا کرتے، جیسے تیروں کی لکڑیوں کو سیدھا کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے آپ سے یہ تعلیم حاصل کر لی ہے اور ہم اس طریقے کو سمجھ گئے ہیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ آگے کو نکلا ہوا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے، یا پھراللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے مخالفت ڈال دے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 717، ومسلم: 436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18389، 18400، 18427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18618»
وضاحت: فوائد: … اس زمانے میں لوگوں بلکہ قریبی رشتہ داروں میں بہت زیادہ منافرت اور دشمنی پائی جا رہی ہے، اس کی ایک وجہ دورانِ جماعت صفوں کو درست نہ کرنا ہے۔ امام البانی رقمطراز ہیں: سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ہر آدمی اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ کندھا، گھٹنے کے ساتھ گھٹنا اور ٹخنے کے ساتھ ٹخنہ ملاتا تھا۔یہ دو احادیث ِ مبارکہ درج ذیل اہم فوائد پر مشتمل ہیں:
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 717
حدیث نمبر: 2643
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيُؤْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں (خواہ مخواہ کی) تاخیر دیکھی اورفرمایا: آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری اقتداء کریں۔ (متنبہ رہو کہ) لوگ پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت والے دن پیچھے کر دے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11312»
وضاحت: فوائد: … اِس ”تاخیر“ سے مراد کیا ہے؟ درج ذیل روایت کا جائزہ لیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ فِیْ النَّارِ۔)) یعنی: ”لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے، یہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو آگ میں پیچھے چھوڑ دے گا۔“ (ابوداود: ۶۷۹)
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 438
حدیث نمبر: 2644
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا أَوْ صُدُورَنَا وَكَانَ يَقُولُ: ( (لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ) ) ، وَكَانَ يَقُولُ: ( (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ) )
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آتے اور ہمارے کندھوں یا سینوں کو چھوتے اور فرماتے: (اس معاملے میں) اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے لیے مخالف ہو جائیں گے۔ اور یہ فرماتے تھے: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 1552، وابن ابي شيبة: 1/ 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18621، 18643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18824»
وضاحت: فوائد: … فرشتوں کا رحمت بھیجنا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 1552
حدیث نمبر: 2645
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: ( (مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ) ) ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَأَانَا حِلَقًا فَقَالَ: ( (مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ) ) ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ( (أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟) ) ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: ( (يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوْلَى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ) )
سیّدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے ہاتھوں کو اس طرح اٹھاتے ہو، جیسے یہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون اختیار کرو۔ پھر ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں گروہوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم مختلف گروہوں کی صورت میں ہو؟ پھر ایک دفعہ آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے، جیسے فرشتے اپنے رب کے پاس بناتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صفیں بناتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں آپس میں مضبوطی کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2645]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21337»
وضاحت: فوائد: … آج کل جن مساجد میں دو دو مقتدیوں کے درمیان سات آٹھ آٹھ انچ کا فاصلہ ہونے کے باوجود جو ائمہ و خطباء خاموش رہتے ہیں، بلکہ لوگوں کو ایسی ہی صف بنانے کی باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کو عربی لغت کی روشنی میں اس حدیث ِ مبارکہ کے آخری الفاظ پر غور کرنا چاہیے کہ ”وَیَتَرَاصُّوْنَ“ کا کیا معنی ہے۔ اس لفظ کا مادہ ”ر َصّ“ ہے، جس کا معنی ہے: ایک دوسرے سے ملنا، جڑنا، دانتوں کا ترتیب کے ساتھ ملا ہوا ہونا، چمٹنا، پیوست ہونا، اس باب سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کو ”بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص“ اور مضبوط اور پختہ چیز کو ”رَصِیْص“ کہتے ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 430