الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2644
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا أَوْ صُدُورَنَا وَكَانَ يَقُولُ: ( (لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ) ) ، وَكَانَ يَقُولُ: ( (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ) )
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آتے اور ہمارے کندھوں یا سینوں کو چھوتے اور فرماتے: (اس معاملے میں) اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے لیے مخالف ہو جائیں گے۔ اور یہ فرماتے تھے: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 1552، وابن ابي شيبة: 1/ 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18621، 18643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18824»
وضاحت: فوائد: … فرشتوں کا رحمت بھیجنا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 1552
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2644 in Urdu