الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا فَكَتَمَهُ أَوْ لَمْ يَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَعَلَّمَ لِغَيْرِ اللَّهِ
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
حدیث نمبر: 275
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَمَّا أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے،“ میں نے کہا: ”اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ آپ کی امت کے وہ خطیب لوگ ہیں، جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ یہ کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4966، وابويعلي: 4160، وابن حبان: 53، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:13421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13454»
وضاحت: فوائد: … ہم اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، کوئی بھی مذہبی رہنما یا خطیب ہو، اس کو سب سے پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر کی فکر کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه البيھقي: 4966
Al-Fath al-Rabbani Hadith 275 in Urdu