الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. فصل منه فيمن صلاها ركعتين ركعتين حتى اتجلت
اس شخض کا بیان جو گرہن والا معاملہ صاف ہونے تک دو دو رکعت کر کے نماز کسوف ادا کرتا رہتا ہے
حدیث نمبر: 2903
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَسْأَلُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْأَلُ، حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: فَقَالَ: ( (إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ أَوْ يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فَإِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَٰكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ، فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ) )
سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں کیا کہ دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر (گرہن کے بارے میں) پوچھتے، پھر دو رکعت پڑھاتے، پھر پوچھتے، حتی کہ سورج صاف ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جاہلیت کے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ سورج اور چاند اس وقت بے نور ہوتے ہیں، جب کہ اہل زمین کے بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت واقع ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت ایسے نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوقات ہیں، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کے لیے تجلّی فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2903]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن النعمان أخرجه البيھقي: 3/ 333، وأخرج النسائي بنحوه: 3/ 145، وتقدم ھذا الحديث برقم: 1689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18541»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن النعمان أخرجه البيھقي: 3/ 333
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2903 in Urdu