🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب من روى أنها ركعتان فى كل ركعة ركوعان وكونها فى المسجد جماعة وبيان مراتب الأركان طولا وقصرا
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں¤نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2904
عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنُعَذَّبُ فِي الْقُبُورِ؟ قَالَ: ( (عَائِذٌ بِاللَّهِ) ) ، فَرَكِبَ مَرْكَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ النِّسْوَةِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى النَّاسُ وَرَاءَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ( (دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ يَا رَبِّ! وَأَنَا مَعَهُمْ وَإِذَا امْرَأَةٌ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ، قُلْتُ مَا شَأْنُ هَٰذِهِ؟ قِيلَ لِي حَبَسَتْهَا حَتَّى مَا تَتْ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت کوئی سوال کرنے کے لیے میرے پاس آئی، اس نے مجھ سے کہا: اللہ تجھے عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تومیں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا،پس میں نکلی اور ابھی تک عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان ہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر آ گئے اور نماز کی جگہ پر تشریف لے آئے اور (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا،پھر اپنا سر اٹھایا اور (قومہ میں) لمبی دیر کے لیے کھڑے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اور طویل سجدہ کیا، (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے) اور پہلی رکعت سے مختصر قیام کیا، پھر رکوع کیا، جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا جو پہلے سجدے سے مختصر تھا۔ اس طرح (دو رکعت نماز میں) چار رکوع اور چار سجدے تھے، اتنے میں سورج صاف ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دجال کے فتنے کی طرح قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔ اس کے بعد میں سنتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2904]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1049، 1050، 1055، 1056، ومسلم: 907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24772»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1049


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2904 in Urdu