🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّهَا رَكْعَتَانِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رُكُوعَانِ وَكَوْنِهَا فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَةً وَبَيَانِ مَرَاتِبِ الْأَرْكَانِ طُولًا وَقَصْرًا
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں¤نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2905
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَكَبَّرَ وَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَالَ: ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) ) ، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ) ) ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّمَا هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ) ) ، وَكَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: فَإِنَّ أَخَاكَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ بِالْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ أَجَلْ إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ
امام زہری، عروہ بن زبیر سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں سورج کو گرہن لگ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی طرف نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں پھر آپ نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبی قراءت کی،پھر اللہ اکبر کہااور لمبا رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہہ کر کھڑے ہوئے اور پھر قیام شروع کر دیا اور سجدہ نہ کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبی قراءت کی، البتہ وہ پہلی قراءت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور لمبا رکوع کیا جو کہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہا اور پھر سجدہ کیا، دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ (ان دو رکعتوں میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اُدھر سلام پھیرنے سے قبل سورج صاف ہوگیا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ان الفاظ کے حمد و ثنا بیان کی جن کا وہ اہل ہے اور پھر فرمایا: بے شک یہ (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر نماز کی طرف پناہ لو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2905]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1046، ومسلم: 902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25078»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1046


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2905 in Urdu