الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ وَفَضْلِ طُولِ الْعُمُرِ مَعَ حُسْنِ الْعَمَلِ
موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2995
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَاصْبِرْنِي، قَالَ: ( (مَا قُلْتَ؟) ) فَأَعَدْتُّ عَلَيْهِ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: ( (مَا قُلْتَ؟) ) قَالَ: فَأَعَدْتُّ عَلَيْهِ فَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوْ اشْفِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ اشْفِهِ بِدُونِ شَكٍّ) ) ) ، قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں بیمار تھا اور یہ کہہ رہا تھا: یا اللہ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو (موت دے کر) مجھے راحت عطا فرما،اگر موت آنے میں دیر ہے تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ میری آزمائش ہے تو مجھے صبر کی توفیق عطا فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیا کہا ہے؟ جب میں نے اپنے الفاظ دہرائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور فرمایا: کیا کہا تم نے؟ میں نے پھر اپنے الفاظ دہرائے، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو عافیت دے۔ یا فرمایا کہ اے اللہ! اس کو شفا دے۔ ایک روایت میں شک کے بغیر صرف یہ الفاظ ہیں: اے اللہ! اس کو شفا دے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے اس تکلیف کی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2995]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:637، 841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 637»
وضاحت: فائدہ: … معلوم ہواکہ کسی بیماری اور تکلیف سے گھبرا کر موت کی دعا کرنامنع ہے، اگرکوئی آدمی تنگ ہو کر ایسی دعا کرے تو اسے سمجھانا چاہئے اور اس کے لیے صحت اور شفا یابی کی دعا کرنی چاہئے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3564
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2995 in Urdu