الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحْتَضَرِ وَتَلْقِينِهِ كَلِمَةَ التَّوْحِيدِ وَحُضُورِ الصَّالِحِينَ عِنْدَهُ وَعَرَقِ جَبِينِهِ
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
حدیث نمبر: 3010
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ بَنَاتِهِ وَهِيَ تَجُودُ بِنَفْسِهَا، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى قُبِضَتْ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: ( (الْحَمْدُ لِلَّهِ، الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ، تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک (نواسی) بیٹی کے پاس تشریف لے گئے، اس کی روح نکل رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے اوپر جھک گئے اور اس کی روح قبض ہونے تک اپنا سر اوپر نہ اٹھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اوپر اٹھایا اور فرمایا: ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، مومن بھلائی میں ہی ہوتا ہے۔ اس کے پہلوؤں سے اس کی روح قبض کی جا رہی ہوتی ہے، جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الترمذي في ’’الشمائل‘‘: 318، وابن ابي شيبة: 3/ 394، وعبد بن حميد: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2412، 2475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2704»
وضاحت: فوائد: … یہ نواسی کون تھی؟ اس کی وضاحت ”ابواب البکائ“ کے باب ”نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان“ میں آئے گی۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الترمذي في ’’الشمائل‘‘: 318
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3010 in Urdu