الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحْتَضَرِ وَتَلْقِينِهِ كَلِمَةَ التَّوْحِيدِ وَحُضُورِ الصَّالِحِينَ عِنْدَهُ وَعَرَقِ جَبِينِهِ
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
حدیث نمبر: 3011
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ (الْأَسْلَمِي) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ بِخُرَاسَانَ فَعَادَ أَخًا لَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَوَجَدَهُ بِالْمَوْتِ، وَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ جَبِينُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِينِ) )
سیّدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ خراسان میں تھے، وہاں وہ اپنے ایک بیمار بھائی کی عیادت کے لیے گئے، جبکہ وہ فوت ہونے والا تھا اور اس کی پیشانی پسینہ آلود تھی، یہ دیکھ کر انھوں نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: مومن کی موت اس کی پیشانی کے پسینے کے ساتھ ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3011]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1452، والترمذي: 982، والنسائي: 4/ 5، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22964، 23022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23410»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1452
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3011 in Urdu